- ~~@@ MIRZA GHALIB ~~@@ KALMKAR PERSONALITY PROJECT
- Darde afsoon nazar aaya
- Na tha kuch to kKHUDA tha
- har ik baat pe
- Ye na thi hamari kismat
- koi umeed bar nahn aati
- dil se nigah ......
- ghiste ghiste paon men.....
- milti hai kuay yaar se
- dehar men naqshe wafa...
- Kisi ko de k dil koi
- Dil hi to hai
- ye jo ham hijr mein diivaar-o-dar ko dekhate hain
- نقش فریادی ہےکس کی شوخئ تحریر کا
- جنوں گرم انتظار و نالہ بیتابی کمند آیا
- عالم جہاں بعرضِ بساطِ وجود تھا
- کہتے ہو نہ دیں گے ہم دل اگر پڑا پایا
- دل میرا سوز نہاں سے بے محابا جل گیا
- عشق سے طبیعت نے زیست کا مزا پایا
- شوق، ہر رنگ رقیبِ سروساماں نکلا
- دھمکی میں مر گیا، جو نہ بابِ نبرد تھا
- شمار سبحہ،" مرغوبِ بتِ مشکل" پسند آیا
- دہر میں نقشِ وفا وجہ تسلی نہ ہوا
- ستایش گر ہے زاہد ، اس قدر جس باغِ رضواں کا
- بس کہ ہوں غالبؔ ، اسیری میں بھی آتش ز یِر پا
- شوق، ہر رنگ رقیبِ سروساماں نکلا
- محرم نہیں ہے تو ہی نوا ہائے راز کا
- بزمِ شاہنشاه میں اشعار کا دفتر کھلا
- شب کہ ذوقِ گفتگو سے تیری دل بیتاب تھا
- نالۂ دل میں شب اندازِ اثر نایاب تھا
- کس کا جنونِ دید تمنّا شکار تھا؟
- پھر مجھے دیدہ تر یا د آیا
- بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا
- دوست غمخواری میں میری سعی فرمائیں گے کیا
- یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا
- ہوس کو ہے نشاطِ کار کیا کیا
- درخورِ قہر و غضب جب کوئی ہم سا نہ ہوا
- پے نذرِ کرم تحفہ ہے 'شرمِ نا رسائی' کا
- گر نہ ‘اندوهِ شبِ فرقت ‘بیاں ہو جائے گا
- درد مِنّت کشِ دوا نہ ہوا
- گلہ ہے شوق کو دل میں بھی تنگئ جا کا
- قطرۀ مے بس کہ حیرت سے نف س پرور ہوا
- میں اور بزمِ مے سے یوں تشنہ کام آؤں
- جب بہ تقریبِ سفر یار نے محمل باندھا
- گھر ہمارا جو نہ روتے بھی تو ویراں ہوتا
- نہ تھا کچھ تو خدا تھا، کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوت&
- بنا کر فقیروں کو ہم بھیس غالبؔ
- یک ذرۀ زمیں نہیں بے کار باغ کا
- وه میری چینِ جبیں سے غمِ پنہاں سمجھا
- دل، جگر تشنۂ فریاد آیا
- دل ہی تو ہے،نہ سنگ و خیشت،درد دے
- ہوئی تاخیر تو کچھ باعثِ تاخیر بھی تھا
- لبِ خشک در تشنگی، مردگاں کا
- تو دوست کسی کا بھی، ستمگر! نہ ہوا تھا
- آئینہ دیکھ، اپنا سا منہ لے کے ره گئے
- ضعفِ جنوں کو وقتِ تپش در بھی دور تھا
- فنا کو عشق ہے بے مقصداں حیرت پرستاراں
- عرضِ نیازِ عشق کے قابل نہیں رہا
- خود پرستی سے رہے باہم دِگر نا آشنا
- ذکر اس پری وش کا، اور پھر بیاں اپنا
- طاؤس در رکاب ہے ہر ذرّه آه کا
- غافل بہ وہمِ ناز خود آرا ہے ورنہ یاں
- جور سے باز آئے پر باز آئیں کیا
- بہارِ رنگِ خونِ دل ہے ساماں اشک باری کا
- عشرتِ قطره ہے دریا میں فنا ہو جانا
- شکوۀ یاراں غبارِ دل میں پنہاں کر دیا
- پھر وه سوۓ چمن آتا ہے خدا خیر کرے
- اسدؔ ! یہ عجز و بے سامانئِ فرعون توَام ہے
- گزرجائے گی زندگی اس کے بغیر بھی
- phir kuchh is dil ko beqaraarii hai
- ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
- ہے غنیمت کہ بہ امید گزر جائے گی عمر
- Koi hamain sataye kyun ??
- عشق مجھ کو نہیں وحشت ہی سہی
- غير ليں محفل میں بو سے جام كے
- Mirza Ghalib (غالب
- دل پہ کرتے ہیں دماغوں پہ اثر کرتے ہیں
- اس کا یہ حال کہ کوئی نہ ادا سنج ملا
- {:~{: Na Huta Gar Juda ....
- Na tha kuch to Khuda tha,
- ہے غنیمت کہ بہ امید گزر جائے گی عمر
- دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت، درد سے بھر نہ
- *::* فقط ایک شعر میں اندازِ رسا رکھتے تھے *::*
- ~*~ ڈبويا مجھ کو ہونے نے ، نہ ہوتا ميں تو کيا ہو
- }{ جو مری کوتاہئ قسمت سے مژگاں ہو گئیں }{
- ~:~:~ Kabi din ne Aaghaz kia :~:~:~
- مدت ہوئی ہے‘ یار کو مہماں کیے ہوئے
- :}Kis Waste Aziz Nai Jante Muje ....
- Jab Tak Na Lage Bewafaai Ki Thokar,