PDA

View Full Version : AAINA KE PEECHAY


shaan
08-30-2009, 04:50 AM
آئینے کے پیچھے


دل کے ٹوٹ جانے کا سانحہ نکل آیا
ہاتھ کی لکیروں سے زائچہ نکل آیا

وہ جہاں بسایا تھا شوق خود نمائی نے
آئینے کے پیچھے بھی آئینہ نکل آیا

کس نے ذکر چھیڑا تھا اس کی سرد مہری کا
باد و برف زاروں کا سلسلہ نکل آیا

دائرے کے باہر بھی دائرے ہی لگتے ہیں
دائرے کے اندر بھی دائرہ نکل آیا

پھر میرے خیالوں میں پھوٹنے لگی سرسوں
پھر جنون و وحشت کا مسئلہ نکل آ یا

اس کی جھوٹی باتوں پر میں یقین کیوں کر لوں؟
پھن اٹھائے بِل سے پھر وسوسہ نکل آیا

میں ابھی سفر کی دھول گھر کو لے کے لوٹا تھا
پھر نئی مسافت کا راستہ نکل آیا

Mudasser
08-30-2009, 05:04 AM
very nice

Saqib
10-26-2009, 06:22 PM
very nice
dear
thanks for sharing

charmingprince
11-12-2009, 12:42 PM
awesome