PDA

View Full Version : اب یہ سوچوں تو بھنور ذہن میں پڑ جاتے ہیں


AfTaB AnSaRi
08-28-2011, 06:11 PM
[Only Registered Users Can See Links]
اب یہ سوچوں تو بھنور ذہن میں پڑ جاتے ہیں
اب یہ سوچوں تو بھنور ذہن میں پڑ جاتے ہیں
کیسے چہرے ہیں جو ملتے ہی بچھڑ جاتے ہیں

کیوں تیرے درد کو دیں تہمتِ ویرانئیِ دل
زلزلوں میں تو بھرے شہر اُجڑ جاتے ہیں

موسمِ زرد میں ایک دل کو بچاؤں کیسے؟
ایسی رُت میں تو گھنے پیڑ بھی جھڑ جاتے ہیں

اب کوئی کیا میرے قدموں کے نِشاں ڈھونڈھے گا
تیز آندھی میں تو خیمے بھی اُکھڑ جاتے ہیں

شغلِ اربابِ ہنر پوچھتے کیا ہو، کہ یہ لوگ
پتھروں میں بھی، کبھی آئینے جڑ جاتے ہیں

سوچ کا آئینہ دُھندلا ہو تو پھر وقت کے ساتھ
چاند چہروں کے خد و خال بگڑ جاتے ہیں

شِدّتِ غم میں بھی زندہ ہوں تو حیرت کیسی
کچھ دیے تُند ہواؤں سے بھی لڑ جاتے ہیں

وہ بھی کیا لوگ ہیں محسن جو وفا کی خاطر
خود تراشیدہ اُصولوں پہ بھی اَڑ جاتے ہیں

محسن نقوی

Rania
10-27-2011, 04:51 PM
بہت خوب اور بہت اچھی شرینگ ہے

maliktaimoorabbas
10-27-2011, 10:54 PM
awesome poetry
:thanks: for sharing

Black Pearl
01-22-2012, 02:53 AM
BoHat kHoob

Good work

Thanks

Cute Fairy
02-02-2013, 06:21 PM
Thanks for nice sharing