PDA

View Full Version : جگنو، گُہر، چراغ، اجالے تو دے گیا


AfTaB AnSaRi
01-24-2012, 01:20 AM
[Only Registered Users Can See Links]
جگنو، گُہر، چراغ، اجالے تو دے گیا
جگنو، گُہر، چراغ، اجالے تو دے گیا
وہ خود کو ڈھونڈنے کے حوالے تو دے گیا

اب اس سے بڑھ کے کیا ہو وراثت فقیر کی
بچوں کو اپنی بھیک کے پیالے تو دے گیا

اب میری سوچ سائے کی صورت ہے اُس کے گرد
میں بجھ کے اپنے چاند کو ہالے تو دے گیا

شاید کہ فصلِ سنگ زنی کچھ قریب ہے
وہ کھیلنے کو برف کے گالے تو دے گیا

اہلِ طلب پہ اُس کے لیے فرض ہے دُعا
خیرات میں وہ چند نوالے تو دے گیا

محسن اُسے قبا کی ضرورت نہ تھی مگر
دُنیا کو روز و شب کے دوشالے تو دے گیا




محسن نقوی

LaZy PrInCeSs
01-24-2012, 01:50 AM
walikum assalam
bohat khooob

Rania
03-10-2012, 02:20 AM
walaikumsalam
Bohot hi Khoob
welldone
Thanx for sharing

bilalsahil
09-16-2012, 08:13 PM
bohat ki umda ghazal hai :)

Cute Fairy
01-06-2013, 08:20 PM
thanks for sharing

Black Pearl
11-24-2013, 10:20 PM
Bohat khoob

Nice sharing