Urdu Planet Forum -Pakistani Urdu Novels and Books| Urdu Poetry | Urdu Courses | Pakistani Recipes Forum  

Go Back   Urdu Planet Forum -Pakistani Urdu Novels and Books| Urdu Poetry | Urdu Courses | Pakistani Recipes Forum > Islam > Islam > Islamic Maloomat

Notices

Reply
 
Thread Tools Display Modes
Old 03-23-2018, 11:44 AM   #1
journalist
Moderator

Users Flag!
 
Join Date: Nov 2011
Posts: 13,740
journalist has a reputation beyond reputejournalist has a reputation beyond reputejournalist has a reputation beyond reputejournalist has a reputation beyond reputejournalist has a reputation beyond reputejournalist has a reputation beyond reputejournalist has a reputation beyond reputejournalist has a reputation beyond reputejournalist has a reputation beyond reputejournalist has a reputation beyond reputejournalist has a reputation beyond repute
Default Islami Maloomat

تقدیرِ الٰہی اور انسانی منصوبہ بندی

تقدیر (الٰہی منصوبہ بندی، ربانی پلان) پر ایمان لانے کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ انسان اللہ کی نازل کردہ شریعت، احکام و اعمال سے غفلت برتے؛ بلکہ اس پر فرض ہے کہ ربانی منصوبہ بندی و پلاننگ کی سنت سے استفادہ کرتے ہوئے، اوامرِ الٰہی، احکام شریعت، اسباب کامیابی کو پوری منصوبہ بندی وپلاننگ سے بخوبی انجام دے، اخلاص و دلچسپی کا پاس ہو، عمارت وخلافت ارض کے تمام اعمال، مدد الٰہی سے منظم و مخطط ہوں۔ علیؓ روایت کرتے ہیں کہ ہم نبی کریمؐ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے، آپ کے ساتھ موجود چھڑی سے آپؐ زمین کو کرید رہے تھے، آپ نے فرمایا: تم میں سے ہر ایک کا جہنم یا جنت کا ٹھکانہ لکھا جا چکا ہے، (اس فرمان پر) حاضرین میں سے ایک شخص نے کہا: یا رسول اللہ! کیا ہم اسی پر تکیہ نہ کرلیں (پھر کام و اسباب عمل کی کیا ضرورت؟ اس غلط فہمی کا ازالہ کرتے ہوئے) آپ نے ارشاد فرمایا: نہیں (ایسا نہ کرو؛ بلکہ) عمل کرو، ہر شخص کو جس کے لیے پیدا کیا گیا ہے، اسی پر آسانی مہیا کی جائے گی۔ (بخاری)
مسلمان پر فرض ہے کہ وہ کامیابی حاصل کرنے اور نقصان و برائی سے بچنے کے تمام اسباب واعمال کو اختیار کرے، اسی کے ساتھ اسے اس کا بھی یقین کامل ہو کہ یہ سب صرف اللہ کے حکم و مشیت سے ہی ممکن ہے، وہ تو صرف اسباب اور احکامِ شریعت پر عمل کرکے ایک عبادت و رضائے الٰہی کے کام میں مشغول ہے، کامیابی و ناکامی کے اسباب و علل پر بھی محاسبہ کرتا رہے، مسلسل کوشش میں لگا رہے، نئے نئے طریقے اور وسائل اختیار کرے، گناہوں، غلطیوں پر ندامت و توبہ و استغفار کا سہارا لے کر دوبارہ جستجو کرے اور بہتر سے بہتر منصوبہ تیار کرے اور عمل پیہم کو اپنا شیوہ بنالے۔ قاعدہ ہے کہ مصائب پر قضا وقدر سے دلیل و صبر حاصل کیا جاتا ہے، نہ کے عیوب و گناہوں پر؛ بلکہ ان سے تو فورا توبہ وا ستغفار کا حکم ہے۔
یہ معتدل و متوازن عقیدہ مایوس کن حالات میں امید کی کرن، مقابلے کے وقت عزیمت، خطرے کے وقت بہادری، پریشانی ومصیبت کے وقت صبر اور دیناوی عزت میں فرقِ مراتب کے وقت اپنی حالت پر قناعت و رضامندی کے ساتھ نفسیاتی سعادت و سکون کا باعث ہوگا۔
ذرا فقہ عمرؓ کی گہرائی پر نظر ڈالیے، تقدیرِ الٰہی کے (plan Intelligent)، اورانسانی اعمال کے نظریہ توازن پر غور کیجیے تو یقین ہوگا کہ دونوں ایک ہی سمت کی طرف رواں دواں، مشیت الٰہی کے ارادوں کی تکمیل کا ذریعہ ہیں، دونوں میں نہ ہی کوئی تعارض ہے، نہ ہی کوئی ٹکراؤ، واقعہ یہ ہے کہ عمرؓ ملک شام کے سفر پر تھے؛ یہاں تک کہ جب آپ مقام سرغ پہنچے، فوجی کمانڈر ابوعبیدہ اور ان کے ساتھیوں نے اطلاع دی کہ ملکِ شام تو وبائی (طاعون) سے دوچار ہے، آپ نے مشورہ کیا کہ ایسی صورت میں کیا کرنا بہتر ہے؟ مختلف آرا سامنے آئیں، مہاجرین وانصار میں سے کچھ نے کہا کہ آپ جس مقصد کے وجہ سے آئے ہیں، اسے مکمل فرمائیں، واپس نہ جائیں، کچھ نے واپسی کو بہتر بتایا، عمرؓ نے پھر مہاجرین کے قرشی بزرگوں سے مشورہ کیا، سب نے متفقہ ایک ہی بات کہی کہ آپ سب لوگوں کے ساتھ واپس تشریف لے جائیں، انھیں اس وبا میں نہ جانے دیں، عمرؓ نے اس رائے کو پسند کیا اور اس کا اعلان کرادیا، اس پر ابوعبیدہؓ نے کہا کہ کیا اللہ کی مقدر کی ہوئی چیز سے بھاگ رہے ہو؟ اس پر عمرؓ نے فرمایا: اے ابو عبیدہ! کاش یہ بات آپ کے علاوہ کسی اور نے کہی ہوتی!پھر فرمایا: جی ہاں! ہم اللہ کی مقدرکردہ چیز سے اس کی ہی مقدر چیز کی طرف بھاگ رہے ہیں، آپ کیا سمجھتے ہو کہ آپ کے پاس اونٹ ہوں، پھر آپ ایسی وادی میں جائیں، جس کے دو حصے یا گوشے ہوں، ایک بہت سرسبز وشاداب، دوسرا چٹیل، آپ سرسبز حصے میں چراؤ توکیا آپ اللہ کی قضاو قدر سے نہیں چراتے؟ (بخاری)
انبیا کرام علیہم السلام نے تقدیر پر ایمانِ جازم کے ساتھ دعوت و تعلیم، دینی ودنیاوی سرگرمیوں کو مکمل پلان، منظم منصوبہ بندی سے انجام دیا۔ آپ ان کے کسی کام میں ہیجانی کیفیت، اضطراب، بد نظمی، نہ پائیں گے، ہر ہر مرحلے اور ہر ہر شعبے میں وحی الٰہی کے زیر نگرانی پوری مستعدی و منصوبہ بندی ان کی سنت و طریقہ تھا، آدم علیہ السلام سے لے کر آخری نبی محمدؐ تک کی سیرت و تاریخ کو پڑھ جائیے، کہیں کوئی بات اس کے خلاف نہ پاؤگے۔
یہ نوح علیہ السلام ہیں، ان کی دعوت و صبر، مخالفوں سے مکالمات وگفتگو، کشتی کی صناعت، طوفانی موجوں پر سواروں کی تنظیم، سب پلاننگ و منصوبہ بندی کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے میں ایک بہترین صبر و شکر کی مثال ہے۔
ابراہیم علیہ السلام نے کس طرح پلاننگ ومنصوبہ بند طریقے سے دعوتی فرائض انجام دیے، پھر بتوں کو توڑنے، مخالفوں سے بحث و مباحثہ میں اس کوکس حسن وخوبی سے عملی جامہ پہنایا؟ یہ وہ ہنر ابراہیمی ہے، اس کا انکار مخالف کے پاس بھی نہیں!
موسی علیہ السلام نے فرعون جیسے ظالم وجابر بادشاہ کے نقشوں کو خاک میں ملادیا، کیا اللہ پر بھروسہ، وحی کی نگرانی میں ایک بہتر منصوبہ و پلان کے بغیر یہ ممکن ہوسکا؟
یوسف علیہ السلام کا سات سالہ اقتصادی پلان کسی سے مخفی نہیں، پھر نظام امور خزانہ، بچپن کے خواب کی تعبیرکا منظر خود ایک اعلی انتظامی صلاحیت اور معیاری منصوبہ بندی کا واضح نمونہ ہے۔
آخری نبی، رحمت عالمین، سید مرسلین محمدؐ کی جامع، کامل، تاریخی سیرت، تمام دعوتی، تعلیمی، سیاسی، اجتماعی، اخلاقی سرگرمیاں منصوبہ بندی کی اعلیٰ معیاری مثالیں ہیں۔ سری دعوت کے ابتدائی مراحل سے لے کر جہری دعوت کے تمام مراحل میں اس سنت الٰہی کا مکمل پاس و لحاظ ہے۔
یہ منصوبہ بندی ایک ایسا نبوی عمل ہے جو زندگی کے ہر شعبے پر محیط ہے۔ ہجرتِ نبی کی منصوبہ بندی خود ایک معجزے سے کم نہیں، اس پروجیکٹ کو آخری انجام تک پہنچانا، اسی طرح مدینہ پہنچ کر اعتقادی و دعوتی امور کے ساتھ قانونی و سیاسی منصوبہ بندی رہتی دنیا تک کے لیے نمونۂ پلاننگ ہے۔ اللہ کے رسولؐ تم سب کے لیے بہترین نمونہ ہیں۔ (الاحزاب:21)
ذرا دیکھیے کہ مہاجرین کے مسئلے کو اقتصادی و اجتماعی، رہائشی و معاشی منصوبہ بندی، اخوت کے ذریعے کیسے بحسن و خوبی انجام دی؟ اور آج پوری دنیا میں مہاجرین کے مسائل کا جائزہ لیجیے!
ایک ہی ملک میں رہنے والے مختلف مذاہب و قبائل کے افراد کے درمیان امن وسلامتی کے ساتھ خوشگوار زندگی کا منصوبہ، میثاقِ مدینہ کے ذریعے کیسے مکمل فرمایا؟
مجموعی طور پر محمدؐ نے پختہ نبوی منصوبہ بندی کے ذریعے فرد انسانی سے لے کر خاندان اور پوری سوسائٹی کو تبدیلی امم کے قوانین کی رعایت کے ساتھ جاہلیت سے نکال کر اسلامی نظام حیات میں شامل فرمایا، کیا قانونِ الٰہی، منہجِ انبیا، اسوۂ رسول ہمیں پلاننگ، منصوبہ بندی، کام سے پہلے اس کا خاکہ تیار کرنے؛ نیز اسے مرحلے وار صبر واحتساب سے انجام دینے کے لیے کافی نہیں؟
یہ کوئی معقول بات نہیں کہ پوری کائنات تو پلاننگ و منصوبہ بند طریقے سے چل رہی ہو، صرف اسلامی سوسائٹی نظام وجود سے خالی رہے، افراتفری، بد نظمی، بے اصولی و انتشار کا شکار رہے، اور منصوبہ بندی جیسی نعمتِ عظمی سے محروم رہے جو معاشرہ وملک کی چال کی درستگی کا پیمانہ ہے، اور محاسبے کے ساتھ صحیح انجام تک پہنچانے کا واحد سبب ہے۔
ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگی کو منظم طریقے سے گذاریں، شریعت کی روشنی میں دنیا وآخرت کی کامیابی کا منصوبہ بنائیں، خاندانی ادارے کا منصوبہ، بچوں کی تعلیم و تربیت کا منصوبہ، معاشی واقتصادی منصوبہ، سیاسی وسماجی منصوبہ، قانونی منصوبہ الخ الغرض ہر کام کا منصوبہ، اس کی پختگی ہی الٰہی احکام کی تنفیذ کے ساتھ دنیا وآخرت کی فلاح وبہبود کا زینہ، نیز کامیاب عمل کی بنیاد ہے۔
قرآنِ کریم صراحت کے ساتھ اس کی دعوت دیتا ہے۔ مثال کے طور پر ارشاد ربانی ہے۔ تفسیری ترجمہ: تم سب اپنی طاقت و حیثیت کے مطابق ان سے مقابلہ کی تیاری کرو۔ (الانفال: 60) آپ کہہ دیجیے! کام کرو چونکہ اللہ تعالی، اس کے رسول اور مسلمان تمہارے کاموں پر نظر رکھے ہوئے ہیں، پھر تمہیں حاضر وغائب کے جاننے والے کے پاس دوبارہ لوٹایا جائے گا پھر وہ تمہارے کیے ہوئے کاموں کی خبردے گا۔ (التوبۃ: 105)
فرمان نبوی کا مفہوم ہے کہ طاقتور مؤمن اللہ کوکمزور مومن سے زیادہ پسند ہے، ہر ایک میں خوبی و بھلائی ہے، جو تمہارے لیے مفید ہو، اسی کو حاصل کرنے کا حرص کرو، اور اس کی کامیابی پر اللہ سے مدد حاصل کرو، ہار کر مت بیٹھو، عاجزی کا بہانہ نہ بناؤ، اس سب کوشش و جدوجہد کے باوجود اگر پھر بھی مصیبت پہنچ ہی جائے تو یہ نہ کہو کہ اگر میں یوں کرلیتا تو یوں ہوجاتا، اگر میں یوں کرلیتا تو یوں ہوجاتا؛ بلکہ یہ بولو: اللہ نے یہی مقدر فرمایا، اور جو چاہا وہ کیا؛ چونکہ اگر کہنا شیطان کو اپنا کام کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ (مسلم)
journalist is offline   Reply With Quote
Reply

Bookmarks

Tags
islami, maloomat


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
Thread Tools
Display Modes

Posting Rules
You may not post new threads
You may not post replies
You may not post attachments
You may not edit your posts

BB code is On
Smilies are On
[IMG] code is On
HTML code is Off

Forum Jump

Similar Threads
Thread Thread Starter Forum Replies Last Post
ISLAMI MALOOMAT 4 journalist Islamic Maloomat 1 05-05-2015 01:25 AM
ISLAMI MALOOMAT 3 journalist Islamic Maloomat 0 05-04-2015 03:32 PM
ISLAMI MALOOMAT 1 journalist Islamic Maloomat 0 05-04-2015 03:30 PM
ISLAMI MALOOMAT journalist Islamic Maloomat 0 05-04-2015 03:28 PM
ISLAMI MALOOMAT journalist Islamic Maloomat 0 04-11-2015 04:11 PM


All times are GMT +6. The time now is 10:18 PM.


Powered by vBulletin® Version 3.8.9
Copyright ©2000 - 2020, vBulletin Solutions, Inc.