Urdu Planet Forum -Pakistani Urdu Novels and Books| Urdu Poetry | Urdu Courses | Pakistani Recipes Forum  

Go Back   Urdu Planet Forum -Pakistani Urdu Novels and Books| Urdu Poetry | Urdu Courses | Pakistani Recipes Forum > Islam > Islam

Notices

Islam Everything Related To Islam Goes In This Section

Reply
 
Thread Tools Display Modes
Old 10-23-2020, 03:55 PM   #1
blueparadise
 
blueparadise's Avatar

Users Flag!
 
Join Date: Jul 2009
Location: Lahore, Pakistan
Posts: 10,158
blueparadise has a reputation beyond reputeblueparadise has a reputation beyond reputeblueparadise has a reputation beyond reputeblueparadise has a reputation beyond reputeblueparadise has a reputation beyond reputeblueparadise has a reputation beyond reputeblueparadise has a reputation beyond reputeblueparadise has a reputation beyond reputeblueparadise has a reputation beyond reputeblueparadise has a reputation beyond reputeblueparadise has a reputation beyond repute
New ایجاد مذہب شیعہ

ایجاد مذہب شیعہ

حضرت العلام اللہ یار خان صاحب رحمہ اللہ

جس میں کتب شیعہ سے ثابت کیا گیا ہے کہ شیعہ مذہب کی بنیاد کسی اسلام دشمن نے رکھی ہے، یہ مذہب نہ رسول خدا ﷺ سے چلا اور نہ بارہ (12) اماموں سے چلا۔ مذہب حق اہل سنت و الجماعت ہے، اس کے سِوا سب مذہب باطل ہیں۔

اَعُوذُ بِاللہِ مِنَ الشّیطانِ الرَّجیِم
بِسمِ اللہِ الرَّحمٰنِ الرَّحیم
الحمد للہ رب العٰلمین و الصلوٰۃ والسلام ؑلیٰ عبادہ الذین اصطفیٰ
اَمّا بعد
-1-
جب اللہ تعالیٰ نے دین اسلام کو مکمل کرنا چاہا اور اپنی تمام نعمتیں مخلوق پر پوری کرنا چاہیں اور ہدایت اور رضا مندی کا دروازہ کھولنا چاہا اور ہر قسم کی نبوّت تشریعی اور غیر تشریعی کا دروازہ بند کرنا چاہا ، تو حضرت محمد الرسول اللہ ﷺ خاتم الانبیاء کو مبعوث فرمایا۔ حضور انور ﷺ نے اپنے منصبِ رسالت کو اس طرح ادا فرمایا کہ جس کی نظیر نہیں ملتی۔ آپ نے اس جاہل قوم میں آ کر تبلیغ و دعوت الی اللہ شروع فرمائی، تو جناب کے شاگردوں اور مریدوں کا ہجوم ہوا۔ اپنے مریدوں کو عقائد و اعمال، حلال و حرام سکھلائے اور ان کے نفوس کا وہ تزکیہ فرمایا جس کی مثال سابقہ انبیاء میں بھی تلاش کرنی نا ممکن ہے۔ جب دین ہر طرح سے مکمل ہو گیا اور دین میں فوج در فوج لوگ داخل ہو گئے، اور جب آپ اپنے منصب کو ادا کر چکے تو داعی اجل کو لبیک فرماتے ہوئے رفیقِ اعلیٰ کی طرف رحلت فرمائی۔ جزاہ اللہ عنا خیر الجزاء۔ جس وقت آپ ﷺ نے دنیا فانی کو ترک فرمایا تو آپ ﷺ کے شاگردوں کی جماعت کی تعداد ایک لاکھ کئی ہزار پر مشتمل تھی۔ بقول ڈاکٹر سپرنگر چار لاکھ تھی۔ آپ ﷺ سے حدیثیں نقل کرنے والوں کی تعداد مَردوں اور عورتوں کی جیسا کہ "اصابہ" کے صفحہ نمبر 11-12 پر موجود ہے۔

تعداد رواۃ توفی النّبیِّ ﷺ و من سمع منہ زیادۃ علیٰ مائۃ الف انسان من رجل و امراۃ کلھم قد روی عنہ عماعا و روایۃ
رواۃ کی تعداد جنہوں نے نبی کریم ﷺ سے حدیثیں سنی ہیں، ایک لاکھ سے زائد تھے۔ مرد و عورت تمام نے نبی کریم ﷺ سے سن کر حدیثیں بیان فرمائیں اور کوئی دوسروں سے سن کر۔

اس مقدس جماعت کے اندر کوئی ذرہ بھر اختلاف نہ تھا۔ تمام کا ایک ہی عقیدہ تھا، جو عقیدہ آج اہل سنّت و الجماعت کا ہی ہے، ان کے اعمال و عبادات میں بھی کوئی اختلاف نہ تھا۔ اگر تھا تو بمتقاضائے فہم و رائے تھا۔ جیسا کہ خود سیّدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے نہج البلاغہ میں فرمایا ہے۔ (نہج البلاغہ جلد 3 صفحہ 125)

و الظاھران ربنا واحد و نبینا واحد و دعوتنا فی الاسلام واحدۃ ولا نستزیدھم فی الایمان باللہِ و التصدیق برسول اللہ و لا یستزید و نانا الامر واحد
ظاہر بات ہے کہ امیر معاویہ(رضی اللہ عنہ) وغیرہ کا اور ہمارا رب ایک ہے، نبی ایک ہے، اسلام ایک ہے۔ ہم ان سے نہ ایمان میں زائد ہیں، بات ایک ہے۔

اس کلام سے واضح ہے کہ حضرت علی (رضی اللہ عنہ)کا مذہب دیگر صحابہ سے کوئی علیحدہ نہ تھا، ورنہ امیر معاویہ (رضی اللہ عنہ) کے ایمان کو اپنے ایمان کے برابر نہ فرماتے۔ اور یہ بھی ثابت ہواکہ حضرت علی (رضی اللہ عنہ) شیعہ نہ تھے۔ نیز یہ بھی ثابت ہوا کہ اس وقت تک صحابہ کرام (رضی اللہ عنہ) میں اصولی اختلاف کا وجود تک نہ تھا۔ البتہ معمولی عمل میں تھا جیسا کہ دمِ عثمان (رضی اللہ عنہ) کے قصاص میں اختلاف ہوا۔
علیٰ ھذالقیاس اس مقدس جماعت میں نہ کوئی جبری تھا، نہ قدری تھا، نہ معتزلی تھا اور نہ رافضی تھا۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے؎
لگایا تھا مالی نے اک باغ ایسا
نہ تھا جس میں چھوٹا بڑا کوئی پودا

حضرات شیعہ بھی اقرار کرتے ہیں کہ اس مقدس جماعت میں اور آپ ﷺ کے زمانہ میں صرف چار آدمی شیعہ مذہب کے تھے مگر وہ بھی تقیہ کر کے اندر دل میں تو شیعہ تھے اور بظاہر سنی ہی تھے، اور خلفائے ثلاثہ کے ہاتھ پر بیعت کر لی تھی اور مرید بن کر حلف وفاداری دے دی تھی کہ ہم آپ کے کسی امر میں مخالفت نہ کریں گے، جیسا کہ خود حضرت علی (رضی اللہ عنہ) کے عمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ اپنے زمانہء خلافت میں بھی کوئی مخالفت نہ کی۔ اور بیعت پر قائم رہے جیسا کہ احتجاج طبرسی جو شیعہ کی چوٹی کی کتاب ہے کے صفحہ 49 پر ہے۔
ما من الامۃ احدبایع مکرھا غیر علی و اربعتنا
امت محمدیہ ﷺ میں سے کوئی ایسا نہ تھا جس نے ابو بکر صدیق (رضی اللہ عنہ) کی بیعت خوشی سے نہ کی ہو سوائے علی (رضی اللہ عنہ) اور چار آدمیوں ہماروں کے۔

فائدہ: بظاہر اگر شیعہ کے ان توہینی خرافات کو ہم مان بھی لیں تو یہ تو ثابت ہوا کہ بظاہر یہ پانچ بھی سنی مذہب کے مطابق قول و اقرار عمل و عبادت کرتے رہے، یا کہہ دیں کہ معاذ اللہ ان کی طرح یہ پانچ شیعہ بھی مرتد ہو گئے تھے، اسی رنگ میں رنگے گئے تھے۔ جب پیر و مرشد مسلمان نہ تھا تو مرید کب مسلمان ہو گا۔ معاذ اللہ ثم معاذ اللہ۔

شیعہ یہ بھی اقرار کرتے ہیں کہ بعد وفات رسول ﷺ تمام صحابہ مرتد ہو گئے تھے، سوائے تین آدمیوں کے۔ پوچھا گیا وہ کون تھے؟ تو فرمایا مقداد اور سلمان اور ابوذر۔

عن ابی جعفر کان الناس اھل الردہ الاثلاثۃ عقلت و من الثلاثہ فقال المقداد بن الاسود و ابوذرن الغفاری و سلمان الفارسی۔
امام باقر فرماتے ہیں کہ تمام آدمی مرتد ہو گئے تھے صرف تین بچے تھے۔ راوی نے سوال کیا وہ کون تھے؟ تو فرمایا مقداد بن اسود، ابوذر غفاری اور سلمان فارسی۔ (رجال کشی ص 4 مطبوعہ بمبئی)
فائدہ: شیعہ کی اس روایت نے حضرت علی و حضرت فاطمہ و حسنین شریفین رضی اللہ عنہم اجمعین و اہل بیعت تک ہاتھ صاف کئے۔اور شیعہ نے جوش غضب میں تبرّا کا خوب حق ادا کیا۔

فصل الخطاب مطبوعہ ایران کے صفحہ 109 پر ہے، کہ صحابہ کرام(رضی اللہ عنہ) کی جماعت نے رسول کریم ﷺ سے اتنا علم حاصل کیا تھا جس سے نفاق پر پردہ پڑ جائے نہ غیر کی تبلیغ کی خاطر۔

فاخذو و امنہ العلم بقدر ما یحفظون بہ ظاہرہم و یستسترون بہ نفاقہم و ہٰذا عندالامامیۃ اوضح منا النار۔
صحابہ کرام(رضی اللہ عنہ) نے رسول کریم ﷺ سے اتنا علم سیکھا تھا جس سے ان کے نفاق پر پردہ پڑ جائے، اور اپنے ظاہر کی حفاظت کر سکیں۔ یہ بات شیعہ کے نزدیک آگ سے زیادہ روشن ہے۔

فائدہ: اول تو شیعہ کے نزدیک صحابہ (رضی اللہ عنہ) کے پاس علم تھا ہی نہیں اور جو علم تھا وہ رسول اکرم ﷺ سے حاصل کیا تھا، وہ بھی بوجہ مرتد ہوجانے کے تمام کا تمام ضائع ہو گیا۔

سوال شیعہ: چار پانچ آدمی جو بچے تھے رسولی علم ان کے پاس محفوظ تھا۔
جواب اول: میں تمام دنیا کے شیعہ کو بڑے زور سے اعلان کرتا ہوں کہ ان تین آدمیوں سے متصل روایت جو مرفوع ہو نبی کریم ﷺ تک ایک ایک آدمی سے پانچ پانچ روائیتیں پیش کریں جو اس طرح ہوں۔
عن سلمان او عن ابی ذرن الغفار او عن المقداد بن الاسود عن رسول اللہ ﷺ
علمان یا ابو ذر غفاری یا مقداد نے رسولِ خدا ﷺ سے یوں نقل کیا کہ رسول خدا نے فرمایا
چلو پیش کرو۔ جب آپ ان سے پانچ روائیتیں مرفوع رسول خداﷺ نہیں پیش کر سکتے تو پھر انہوں نے مذہب شیعہ کو رسول خدا ﷺ سے کیسے نقل کیا تھا؟
کتاب "
ایجاد مذہب شیعہ" پی ڈی ایف میں حاصل کرنے کے لئے نیچے دئیے ہوئے لنک پر کلک کریں۔
DOWNLOAD ATTACHMENT
Attached Files
File Type: pdf Ejaad e Mazhab e Shia.pdf (3.21 MB, 0 views)
blueparadise is offline   Reply With Quote
Reply

Bookmarks

Tags
ایجاد, شیعہ, مذہب


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
Thread Tools
Display Modes

Posting Rules
You may not post new threads
You may not post replies
You may not post attachments
You may not edit your posts

BB code is On
Smilies are On
[IMG] code is On
HTML code is Off

Forum Jump

Similar Threads
Thread Thread Starter Forum Replies Last Post
شکستِ اعدائے حُسین رض blueparadise Islamic Books 0 10-23-2020 03:44 PM
دین سے دُور ، نہ مذہب سے الگ بیٹھا ہوں Youthfull Urdu poetry 2 01-25-2015 08:15 PM
کیا عام مسلمان بلپریت کور سے کچھ سیکھنے کو  b khan General Knowledge 6 08-06-2013 10:57 PM


All times are GMT +6. The time now is 05:54 AM.


Powered by vBulletin® Version 3.8.9
Copyright ©2000 - 2020, vBulletin Solutions, Inc.