Urdu Planet Forum -Pakistani Urdu Novels and Books| Urdu Poetry | Urdu Courses | Pakistani Recipes Forum  

Go Back   Urdu Planet Forum -Pakistani Urdu Novels and Books| Urdu Poetry | Urdu Courses | Pakistani Recipes Forum > Urdu Planet > Urdu Adab

Notices

Reply
 
Thread Tools Display Modes
Old 08-24-2014, 02:40 PM   #1
b khan
QǓεЗη σF ђ3ǍяŤ.......
 
b khan's Avatar

Users Flag!
 
Join Date: May 2012
Location: ~♥~●♥ღ ΠязαmℓάиΠ ღ♥●~
Posts: 12,599
b khan has a reputation beyond reputeb khan has a reputation beyond reputeb khan has a reputation beyond reputeb khan has a reputation beyond reputeb khan has a reputation beyond reputeb khan has a reputation beyond reputeb khan has a reputation beyond reputeb khan has a reputation beyond reputeb khan has a reputation beyond reputeb khan has a reputation beyond reputeb khan has a reputation beyond repute
Cool مگر وہ دن کب آئے گا




مگر وہ دن کب آئے گا

اعجاز منگی
اس پنجابی آرٹسٹ کے الفاظ میں جھوٹ کی جھلک تک نہیں تھی جو کلفٹن کے ایک فلیٹ میں بنے ہوئے اپنے اسٹوڈیو کی کھڑکی کھول کر سمندری ہوا میں ایک لمبی اور گہری سانس لیتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ ’’میں کس طرح بھول سکتا ہوں؛ اپنے اس ’’پنڈ‘‘ کو جس کے نل کا پانی پینے سے پیاس تو کیا بھوک بھی ختم ہوجاتی ہے‘‘ مگر وہ تنہا نہیں ہے۔ اس شہر میں ہر زبان میں درد بیان کرنا والے بہت سارے افراد موجود ہیں جو لوڈ شیڈنگ کی اذیت کا احساس اپنے گاؤں کی یاد سے کم کرتے ہیں۔
’’چھوڑ آئے ہم وہ گلیاں‘‘
یہ گیت صرف ’’ماچس‘‘ کے باغی کرداروں تک محدود نہیں۔ اس شہر میں بستے ہیں وہ ’’بشیرے اور نذیرے ‘‘ بھی جن کے سانسوں سے سرسوں کی وہ مہک جانے کا نام نہیں لیتی جس کے سہارے سے وہ کراچی کے قید کا مقابلہ کرتے ہیں۔ کبھی کبھی ایک مہک بہت ہوا کرتی ہے کوئی غم کی لمبی شام بتانے کے لیے!!
’’خوشبو ایک خاموش گفتگو کا نام ہے‘‘ یہ عبارت کسی ہورڈنگ ؛ کسی موشن پکچر یا جامد اشتہار پر تو کیا کسی پرفیوم کے پیکٹ پر بھی نہیں لکھی گئی تو کیا ہوا؟ اگر کرشن چندر اپنے افسانے میں اس کا تذکرہ کرنا بھول بھی گیا تو کیا ہوا؟ ہے تو حقیقت!!
کراچی میں بسنے والے اہلیان پنجاب کی اقلیت کو آج بھی اپنے وہ گاؤں بہت یاد آتے ہیں؛ جو ان کی یاد میں اب صرف خوشبو کی مانند باقی بچے ہیں۔اور یہ کوئی ادبی طرز کا ڈائلاگ نہیں مگر حقیقت ہے۔ اگر ان لوگوں کی آنکھوں پر کس کر پٹی باندھ دینے کے بعد بھی اگر اپنی جنم بھومی پر لے جائیں تو وہ آپ سے بے خود ہوکر کہیں گے کہ ’’میری مٹی کی خوشبو بتا رہی ہے کہ یہ میرا گاؤں ہے‘‘ بھلے آپ اس شخص کی آنکھوں کے ساتھ اس کے کان بھی بند کردیں۔ وہ پھر بھی جان جائے گا کہ وہ کہاں پہنچا ہے؟ خوشبو سے زیادہ خطرناک یاد اور کوئی نہیں ہوسکتی۔
تو ان گاؤں کی خوشبوئیں ابھی تک ان اہلیان کراچی کی سانسوں میں بسی ہوئی ہیں جن کی سماعتوں پر اب بھی رات کو دیر سے ایف ایم پر بلند ہوتا ہوا وہ لوک گیت ٹکراتا ہے تو وہ وہاں پہنچ جاتے ہیں جہاں لوگوں کو صرف لوگ ہی نہیں مگر درخت بھی جانتے ہیں۔ جہاں انہیں پرندے بھی پہچانتے ہیں اور ایک دوسرے کو چہک کر کہتے ہیں کہ ’’لو پہنچ گیا پٹورای دا پتر بابو صاب بن کر!!‘‘
وہ گلیاں کتنی تھوڑی سی تھیں اور گمنام بھی ؛ جن گلیوں پر نہ کسی نام اور نہ کسی نمبر کا بورڈ آویزاں ہوا کرتا تھا۔ جن گلیوں کو دیکھ کر انہیں وہ عشق یاد آجاتے ہیں؛ جن کی ایک صدا نصرت فتح علی خان کے اس گیت میں اب بھی گونجا کرتی ہے کہ:
’’کملی کرکے چھوڑ گیاں ایں
بیٹھی ککھ گلیاں دے رولاں‘‘
اب وہاں ککھ تو بہت ہیں مگر وہ کڑی نہیں جو اپنے پیروں سے دھوپ کو مٹی کی طرح اڑاتے ہوئے چلتی تھی ۔ جو ہنستی تھی تو اس کے دونوں گالوں میں وہ بھنور پڑا کرتے تھے جن کو پنجابی میں ’’ٹوئے ‘‘کہا جاتا ہے۔وہ لڑکی جس کی کمر کے بل پر ندی مڑا کرتی تھی۔ ہنسی جس کی سن سن کر فصل پکا کرتی تھی۔ وہ کڑی صرف اس پنڈ کی نہیں تھی جس میں بھارت کے رومانوی شاعر گلزار کا جنم ہوا تھا۔ مگر اس شخص کے گاؤں میں بھی محبت کے ایسے مناظر ابھرتے اور ڈوبتے رہتے تھے جو شخص کراچی میں چمڑے کا بزنس کیا کرتا ہے۔ جو ایک ایسے کارخانے میں کام کرتا ہے جہاں رات دن چلنے والی مشینیں انسان کو پاگل بنانے کی ناکام کوشش کرتی رہتی ہیں۔ جہاں ایک گھٹن ہوا کرتی ہے اور اسے یاد آتی ہیں وہ ہوائیں جن میں صرف منتظر عاشقوں کی سیٹیاں ہی نہیں بلکہ ان پرندوں کی پکاریں بھی تیرا کرتی تھیں جو اپنے آشیانوں سے بچھڑ جاتے تھے۔
ستاروں کا وہ جھرمٹ ڈسکو کلب کی جھل مل کرتی روشنیوں سے کہیں زیادہ حسین ہوا کرتا تھا جو آنگن میں لیٹے ہوئے انسانوں کے ساتھ بہت سی بھن بھن باتیں کیا کرتا تھا۔
گاؤں ماں کی آغوش ہوا کرتا ہے ۔ اور شہر مارکیٹ۔ مارکیٹ میں اپنے اندر ایک بچہ سنبھال کر چلنے والے شخص کو ماں بہت یاد آتی ہے۔ وہ ماں جس کو بھی انسان اس کی خوشبو سے پہچان سکتا ہے۔ ماں کی مہک کون بھلا سکتا ہے؟وہ مہک جو اس کے میلے کپڑوں سے آتی تھی۔ وہ مہک جو اس کے محنت کش ہاتھوں سے آتی تھی۔ وہ مہک جو اس کے آنچل سے قطرہ قطرہ ٹپکتی تھی اور روح میں ایک بے پایاں خوشبو بس جاتی تھی۔
اور یہ بھی حقیقت ہے کہ اپنے گاؤں سے محبت کراچی سے نفرت کا نام نہیں۔ وہ لوگ جو اٹھتے بیٹھتے اپنے دیہاتوں کا دم بھرتے ہیں وہ کراچی سے نفرت نہیں کرتے۔ اپنی ماں سے محبت کرنے والا اپنے بچوں کی ماں سے کس طرح نفرت کرسکتا ہے؟عام لوگوں کو اظہار کا فن اور اس میں استعمال کرنے والے استعاروں کا آرٹ نہیں آتا مگر وہ بھی ایسا ہی کچھ محسوس کیا کرتے ہیں جو کچھ بھارت کے سکھ صحافی خشونت سنگھ نے ’’دلی‘‘ کے لیے لکھا ہے۔
یہ ایک انتہا پسند اردو اسپیکنگ کا موقف تو ہو سکتا ہے کہ ’’ملک کے مختلف شہروں سے آنے والے افراد کراچی کو ایک بیسوا سمجھتے ہیں‘‘ مگر حقیقت تو یہ ہے کہ وہ سب لوگ جو اپنے گاؤں کو اپنی ماں کہتے ہیں وہ کراچی کو اپنا ایساجیون ساتھی سمجھتے ہیں جس کے ساتھ رہنا بھی مشکل اور جس سے دور ہونا بھی ناممکن ہوا کرتا ہے۔اپنی بیگم کو ’’ایم کیو ایم‘‘ کے نام سے پکارنے والے وہ پنجابی ایک نفرت بھری محبت یا ایک محبت بھری نفرت کرتے ہیں اس شہر سے جس میں انہیں الطاف حسین کے باتوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔وہ لوگ جو اکثر لڑتے اور جھگڑتے رہتے ہیں اس شہر کے ساتھ جس کے پہلو میں وہ سکون کے ساتھ سواجاتے ہیں۔
وہ لوگ جو سہراب گوٹھ پر کھڑی ان کوچوں کو حسرت بھری نگاہ سے دیکھا کرتے ہیں جنہیں اگلی صبح اس گاؤں میں ہونا ہوتا ہے جہاں زندگی گھٹ گھٹ کر مرنے کا نام نہیں ہوا کرتی تھی۔ جہاں ایک سکون سا ہوا کرتا تھا۔ مگر وہ لوگ کراچی کو کس طرح چھوڑیں؟ کراچی تو ان کی شریک حیات ہے۔ اس کا وجود تو ان کے خاندان کا وجود ہے۔ وہ لوگ کراچی کو کسی قیمت پر بھی نہیں چھوڑ سکتے جن کے بچے کراچی کے بغیر سکون سے سو بھی نہیں سکتے۔
وہ بچے اور بچیاں جو کراچی میں پیدا ہوئے۔ انہیں کراچی کی مہک اچھی لگتی ہے۔جو کراچی میں رہتے ہیں ان کے تو بات ہی کیا مگر وہ نوجوان جو اب یہاں نہیں بستے؛ انہیں بھی جب کراچی کی یاد آتی ہے تو نیویارک؛ لنڈن؛ اور پیرس کے رنگ پھیکے پڑ جاتے ہیں۔اپنے آپ کو سونے کے پنجرے میں قید طوطے اور مینائیں سمجھنے والے وہ ’’کراچائیٹ‘‘ جو بی ایم ڈبلیو میں بیٹھ کر کراچی کے آٹو میں سفر کرنے والی دوست کو فون کرکے پوچھتے ہیں کہ ’’کہاں ہو اس وقت؟‘‘ اور جب وہ کہتی ہے کہ ’’گرومندر کے پاس سے گذر رہی ہوں‘‘ تب کراچی ان کی آنکھوں میں نمی کا تناسب بڑھا دیتا ہے اور وہ بچوں کی طرح ضد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’ ’مجھے بتاتی جاؤ کہ تم کہاں کہاں سے گذر رہی ہو؟کیا مذار قائد پر شام کا پھیکا چاند چمک رہا ہے؟ کیا ایم جناح پر ٹریفک کا رش بہت شدید ہے؟ سیون ڈے کے پاس کھڑے املتاس کے درخت سے زرد پھول جھڑ رہے ہیں؟ کیا رمپا پلازہ کے ساتھ لگی ہوئی لوہے کی سیڑھی پر لوگ گذر رہے ہیں؟ کیا دو راستوں کے بیچ لگی ہوئی لوہے کی گرل سے کوئی بچہ آسانی کے ساتھ گذر گیا؟ کیا وہاں کوئی موٹا پھنس گیا؟ کیا ہوا؟ بتاؤ نہ کراچی کے بارے میں!! کیا اب تک وہاں سب کچھ ویسا ہے؟ ؟؟‘‘ پردیس میں بسنے والے لوگ سمجھتے ہیں کہ ’’ہمارا شہر بدل گیا ہوگا‘‘ مگر انہیں کوئی امرت رس میں ڈوبے ہوئے لہجے کے ساتھ اطلاع دیتا ہے ’’ اس شہر میں سب کچھ ویسا ہی ہے۔ وہی اجنبی بھیڑ۔ وہی تحفظ کی تشویش۔ وہی ہر روز ہونے والی ہڑتالیں۔ وہی دکانیں۔ وہیں خریدار۔ وہی شور ۔ وہی دن۔ وہی رات۔ وہی صبح۔ وہی شام۔ ہاں! صرف تم نہیں ہو۔ تم کہاں ہو؟‘‘ اور وہ اپنے احساسات کا اظہار اشعار میں کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ :
’’ہم وہاں ہیں جہاں سے
ہم کو بھی کچھ اپنی خبر نہیں آتی‘‘
مرزا غالب نے کیا غضب کی بات کہی ہے کہ:
’’ہر اک مکاں کو ہے مکیں سے شرف اسد
مجنوں جو مر گیا ہے تو جنگل اداس ہے‘‘
مگر کبھی کبھی کسی کسی کو تو لگتا ہوگا کہ غالب غلط ہے۔ کیوں کہ صرف مکانوں کو مکینوں سے شرف حاصل نہیں ہوتا مگر کچھ صورتوں میں مکینوں کو مکانوں سے شرف حاصل ہوا کرتا ہے۔ کراچی کے وہ مکین جنہوں نے آنکھیں کھولیں تو اس دھوئیں میں جو اب انہیں پریشان نہیں کرتا۔ جنہوں نے اس شہر کی ہسپتالوں میں جنم لیا اور اس شہر کے تنگ آنگنوں میں چلنا سیکھا۔ اس شہر کی گلیوں کی دکانوں سے پہلی پہلی ٹافیاں خریدیں۔ اس شہر کے اسکولوں میں ’’ABC........‘‘ پڑھی۔ اس شہر کے دکانوں کو دیکھا۔ اور اسی شہر کی دھوپ سے ’’موم کی وہ گڑیا‘‘ بھی خریدی جو گھر تک نہ آسکی۔
کراچی ایک قلیل اقلیت کے لیے بیوی ہوسکتی ہے مگر ایک بہت بڑی اکثریت کے لیے ایک ایسی ماں کا درجہ رکھتی ہے؛ جس کے پیروں کے جنت میں تشدد کے انگارے جلانے والوں سے وہ اہلیان کراچی شدید نفرت کرتے ہیں جو کسی پارٹی کے کارکنان نہیں مگر اس شہر کے بیٹے اور بیٹیاں ہیں۔کراچی کی پرشور فضاؤں میں بیحدسکون کے ساتھ سونے والے ان بچوں کے کراچی میں جب بھی ’’یوم سوگ‘‘ کے نام پر کوئی ہڑتال ہوا کرتی ہے تب موبائل میسیج کے معرفت اپنے دل کی بھڑاس نکالنے والے یہ نوجوان نسل ایسا سمجھتی ہے جیسے کسی نے ان کی ماں کی توہین کی ہو!!
ہر انسان اپنی ماں سے پہلی اور اپنے شہر سے دوسری محبت کرتا ہے۔کراچی سے محبت کرنے والے کم نہیں ہیں۔ مگر وہ خاموش ہیں۔ کراچی کی خاموش اکثریت ایک دن امن کی خطرناک یلغار بن جائے گی۔
’’magar wo din kab aae ga?‘‘
موبائل فون کی کی پیڈ پر یہ الفاظ ٹائپ کرنے والی لڑکی کی انگلیوں میں درد ہوتا ہے۔
وہ کراچی کی بیٹی جس کو اگر یہ پنجابی کہاوت سنائی جائے کہ ’’ماواں ٹھنڈیاں چھاواں ‘‘ تو اس کی خوبصورت آنکھوں میں سمانے والا کراچی ایک آنسو کی صورت ڈھلکنے لگتا ہے
__________________

b khan is offline   Reply With Quote
Old 08-24-2014, 10:10 PM   #2
bint-e-masroor
Moderator
 
bint-e-masroor's Avatar

Users Flag!
 
Join Date: Nov 2012
Location: ●♥ღ ΠязαmℓάиΠ ღ♥●
Posts: 26,494
bint-e-masroor has a reputation beyond reputebint-e-masroor has a reputation beyond reputebint-e-masroor has a reputation beyond reputebint-e-masroor has a reputation beyond reputebint-e-masroor has a reputation beyond reputebint-e-masroor has a reputation beyond reputebint-e-masroor has a reputation beyond reputebint-e-masroor has a reputation beyond reputebint-e-masroor has a reputation beyond reputebint-e-masroor has a reputation beyond reputebint-e-masroor has a reputation beyond repute
Default Re: مگر وہ دن کب آئے گا

Great Sharing
__________________
bint-e-masroor is offline   Reply With Quote
Reply

Bookmarks

Tags
آئے, دن, مگر, وہ, کب, گا


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
Thread Tools
Display Modes

Posting Rules
You may not post new threads
You may not post replies
You may not post attachments
You may not edit your posts

BB code is On
Smilies are On
[IMG] code is On
HTML code is Off

Forum Jump

Similar Threads
Thread Thread Starter Forum Replies Last Post
دجال کون۔۔۔؟ کب ۔۔۔؟ کہاں۔۔۔۔؟ FM Rao Islami History and Waqiat 2 09-22-2014 03:28 PM
وہ سامنے آئے تونظروں کو جھکا لوں گا AfTaB AnSaRi Urdu poetry 3 11-26-2013 06:16 PM
معلوم نہ تھا ہم کو ستائے گا بہت وہ AfTaB AnSaRi Urdu poetry 5 10-22-2013 03:58 PM
آس نراش کا زخمی پنچھی آخر کب تک گائے گا AfTaB AnSaRi Urdu poetry 1 01-30-2013 02:15 AM
جب وہ پشیمان نظر آئے ہیں AfTaB AnSaRi Urdu poetry 1 01-29-2013 10:54 PM


All times are GMT +6. The time now is 10:04 AM.


Powered by vBulletin® Version 3.8.9
Copyright ©2000 - 2020, vBulletin Solutions, Inc.