Urdu Planet Forum -Pakistani Urdu Novels and Books| Urdu Poetry | Urdu Courses | Pakistani Recipes Forum  

Go Back   Urdu Planet Forum -Pakistani Urdu Novels and Books| Urdu Poetry | Urdu Courses | Pakistani Recipes Forum > Islam > Islam > Islamic Maloomat

Notices

Reply
 
Thread Tools Display Modes
Old 03-16-2018, 01:12 PM   #1
journalist
Moderator

Users Flag!
 
Join Date: Nov 2011
Posts: 13,664
journalist has a reputation beyond reputejournalist has a reputation beyond reputejournalist has a reputation beyond reputejournalist has a reputation beyond reputejournalist has a reputation beyond reputejournalist has a reputation beyond reputejournalist has a reputation beyond reputejournalist has a reputation beyond reputejournalist has a reputation beyond reputejournalist has a reputation beyond reputejournalist has a reputation beyond repute
Default Islami Maloomat

فی الحال جو برائیاں پیش نظر ہیں ان میں شادی کے موقع پر سنت و شریعت کو چھوڑ دینا ہے جس کی وجہ سے ہم غضب الٰہی کے مستحق ہو رہے ہیں، ممنوعات شرعیہ، رسوم ورواج کا ارتکاب کیا جارہا ہے، اسلا می طریقے مٹ رہے ہیں، فضول خرچی، بے پردگی، غیروں کی مشابہت، اختلاط مع النسا، ویڈیو گرافی، رقص وموسیقی، نمود و نمائش، شہرت طلبی جیسے مفاسد نے اپنا دائرہ بہت وسیع کر لیا ہے، اکثر مسلم گھرانوں پر ان برائیوں کے سیاہ بادل چھائے ہوئے ہیں، لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام ذمے داران قوم، خصوصاً علما، اس سلسلے میں قوم کو متوجہ کریں، برادری اور کمیٹیاں بنا کر سدھار کی کوشش کریں، ورنہ وہ وقت دور نہیں کہ خداوند قدوس اسلام کی ناقدری کی وجہ سے ہمیں محروم کر کے دوسروں کو نواز نہ دے اور پھر وہ ہم جیسے ناقدرے نہ ہوں۔
جب رشتہ طے کریں تو کیا چیز دیکھنی چاہیے ؟
ابو ہریرہؓ حضور اقدسؐ کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: عورت سے نکاح چار باتوں کی وجہ سے کیا جاتا ہے:
اس کی مالی حیثیت کو دیکھ کر، اس کے خاندان کی بلندی اور اعزاز کی وجہ سے، اس کے حسن و جمال اور خوبصورتی کو دیکھ کر، اس کی دین داری، اخلاق حمیدہ کو دیکھ کر۔ تم دین داری، اخلاق کی عمدگی کو ترجیح دو، تمہاری زندگی خوش حالی کے ساتھ گذرے گی۔ (مشکوۃ)
لہٰذا آج کل لوگ مال داری کو دیکھتے ہیں، کچھ لوگ اونچے خاندان میں شادی کرنا باعث عزت سمجھتے ہیں، اکثر نوجوانی، خوبصورتی پر مرتے ہیں۔ حضورؐ نے ارشاد فرمایا کہ تم دین داری کو اختیار کرو، اگر اپنی زندگی میں دائمی چین، سکون، راحت و اطمینان، عزت، برکت چاہتے ہو تو سیرت کو دیکھو، مال و جمال، خاندان کو نہ دیکھو۔
پیغام دینے کا اسلامی طریقہ
حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کوئی کسی عورت کو پیغام نکاح دے تو اگر نکاح کے لیے مطلوبہ لڑکی کو دیکھ سکتا ہو تو ضرور ایسا کرے۔ (ابوداؤد)
مسئلہ:چنانچہ مرد کے لیے مخطوبہ (جس لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہے اس) کا چہرہ ہتھیلی دیکھنا جائز ہے، یہ دونوں ستر میں نہیں ہیں۔ (شرح مسلم/ص 456/ج1)
مذکورہ بالا حدیث میں یہ قید لگائی گئی ہے کہ اگر مطلوبہ لڑکی کو دیکھنا ممکن ہو تو ایسا کر لینے میں کوئی حرج نہیں، اس سے پتا چلا کہ اگر کسی خاندان، گھرانے میں اس کو عیب سمجھا جاتا ہو یا دیکھنے دکھانے سے دوسرے نقصانات پیدا ہوتے ہو تو پھر دوسرے قابل اعتبار طریقوں کو اختیار کرنا چاہیے، مثلاً لڑکے کی والدہ بہنیں وغیرہ جا کر دیکھ کر آئیں اور لڑکے کو پوری صورتِ حال سے آگاہ کردیں، اس سلسلے میں موجودہ دور میں جو قباحتیں اور برائیاں شروع ہوئی ہیں وہ قابل ترک ہیں، مثلاً لڑکی دیکھنے کے لیے درجنوں آدمی مرد وعورت گاڑیاں بھر کر جاتی ہیں، پہلے سے بذریعہ فون اطلاع کردی جاتی ہے، ان لوگوں کے لیے خاطر داری، مہمان نوازی کا انتظام کیا جاتا ہے، لڑکی پسند آئے یا نہ آئے لڑکی والوں کا خوامخواہ بے حد خرچ ہوتا ہے، لہذا شرعی طریقہ یہ ہے کہ ایک مرد و عورتیں جائیں، اپنے جانے کی زیادہ شہرت نہ کریں، جن کے یہاں پہنچیں وہ بھی زیادہ شہرت نہ کریں کہ محلے کی لڑکیا ں عورتیں جمع ہوجائیں، اگر لڑکی پسند نہ آئی تو خوامخواہ کی فضیحت ہوتی ہے اور لڑکی کی دل آزاری علیحدہ رہی، لہٰذا اس سے پرہیز لازمی طور پر کیا جائے۔ نیز یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ اگر کسی دوسرے نے رشتہ ڈال رکھا ہے تو وہاں رشتہ چلانا منع ہے۔
شادی سے ایک یا دو دن پہلے بٹنے کی رسم ادا کی جاتی ہے، اس میں چند خرابیاں ہونے کی وجہ سے شریعت منع کرتی ہے، رزق کی بے حرمتی ہے۔
لڑکا قبیلے کی عورتوں کے سامنے برہنہ ہوکر بیٹھتا ہے، اپنے اور غیروں سب کے سامنے ستر کھولنا شرعاً حرام ہے غیر محرم لڑکیاں عورتیں ہاتھ لگاتی ہیں، یہ بھی ناجائز ہے بعض لڑکے بھی آجاتے ہیں، وہ لڑکے بجائے بٹنا ملنے کے لڑکیوں کے ملنا شروع کردیتے ہیں، یہ اختلاط مع النسا بھی ناجائز ہے، بعض مرتبہ دیکھا گیا کہ نالی سے چوڑا نکال کر لگا دیتے ہیں، یہ بدتمیزی ہے۔
منگنی سگائی
جب لڑکا لڑکی والوں کو اور لڑکی لڑکے والوں کو پسند آگئی، اب ہونا تو یہ چاہیے کہ بس نکاح کی تاریخ متعین ہوجائے، ہمارے معاشرے میں غریب ہو یا امیر، سب میں ایک رواج چل پڑا ہے کہ پہلے منگنی ہوتی ہے، جس کو حضرت تھانویؒ نے قیامت صغری سے تعبیر کیا ہے، اس وقت بھی ایک مرتبہ پھر رشتے دار جمع ہوتے ہیں، مہمان نوازی و دعوتوں کا اہتمام ہوتا ہے اور بے شمار اخراجات برداشت کیے جاتے ہیں، محلے والوں کو جمع کیا جاتا ہے، لڑکے والے بھی کاریں بھر کر جاتے ہیں اور مختلف قسم کے پھل کے جوڑے، دیگر اشیا اور لڑکے کو پیسے جن کی مقدار مختلف ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ بعض جگہ پر جانے والے تمام لوگوں کو جوڑے دیے جاتے ہیں، یہ خواہ مخواہ کے خرچے ہیں، شریعت میں ان کی کوئی اصل نہیں، فضول خرچی کے دائرہ میں آکر ناجائز ہوجاتے ہیں، لہذا اس کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ طرفین سے پسندیدگی ہوگئی تو کسی تحریر کے ذریعہ یا معتمد حضرات کے ذریعے نکاح کی تاریخ پہنچادی جائے، پھر رشتہ طے ہونے اور شادی کے درمیان زیادہ وقت نہ لگایا جائے، دیکھنے میں آیا ہے کہ جب زیادہ وقت درمیان میں گزرتا ہے تو شکوے شکایتیں پیدا ہو کر رشتے کی بات ختم ہوجاتی ہے اور جو اخراجات کیے ہیں وہ سب بے کار چلے جاتے ہیں۔
نوتہ دینا
بہن اپنے بھائیوں کے پاس نوتنے کے لیے جاتی ہے، شادی میں شرکت کے لیے دعوت دیتی ہے اور زیادہ سے زیادہ سامان کا مطالبہ کرتی ہے، خواہ بھائی غربت، پریشانی کی حالت میں ہوں، چاہے سودی قرضہ لینا پڑے، لیکن بہن کا مطالبہ پورا کرنا ضروری سمجھتے ہیں، سمجھ لینا چاہیے کہ اس طرح زور ڈال کر مطالبہ کرنا شریعت میں منع ہے، حدیث پاک میں ہیکہ کسی مسلمان کا مال بغیر خوش دلی کے جائز نہیں ہے، لیکن آج کل لڑکیوں کو میراث نہیں دی جاتی، یہ بھی بہت بڑا گناہ ہے، اس سلسلے میں بھی بہت غور و فکر کرنا چاہیے اور لڑکیوں کو میراث میں سے ان کا حق دینا چاہیے، غالباً لڑکیاں اس لیے مختلف طریقوں سے مطالبہ کرتی ہیں جب ان کا حق واجب طریقے سے ادا نہیں کیا جاتا، لیکن یہ طریقہ شرعاً مذموم ہے۔
کارڈ چھپوانا
آج کل شادی بیاہ کی اطلاعات دینے کے لیے نہایت دیدہ زیب قیمتی کارڈ چھپوانے کا رواج عام بن گیا ہے، خوامخواہ اطلاعات میں ہزاروں روپیہ فضول خرچ کیا جاتا ہے، عام سادہ کارڈ سے کام چل سکتا ہے تو ریا، نمودو نمائش کرنا عبث ہے اور قابل ترک ہے۔
لڑکی کو مایوں بٹھانا
گھر میں برادری اور کنبے کی عورتیں جمع ہو کر لڑکی کو علیحدہ مکان میں بٹھا دیتی ہیں، جس کو مائیوں بٹھلانا کہتے ہیں، اس میں چند خرابیاں ہیں یہ لازمی طور پر بٹھلانا خلاف شرع ہے لڑکی کے بیمار ہونے کا اندیشہ ہے، گرمی، سردی اندھیرا کچھ ہو، اگر لڑکی بیمار ہوگئی تو ساری شادی دھری رہ جائے گی، ایک مسلمان لڑکی کو تکلیف دینا، اس کی آزادی کو سلب کرنا اور ایذائے مسلم حرام ہے، اس کا گناہ بٹھلانے والوں کو ہوگا، اس دوران بٹنا ملا جاتا ہے، جو خلاف شرع ہے۔
جوڑا کھولا جانا
شادی سے تقریباً ایک ماہ قبل لڑکی والوں کی طرف سے ایک آدمی لال خط لے کر تاریخ پر مطلع کرنے کے لیے جاتا ہے، اس کی آمد پر بھی اعزا، اقربا، محلہ پڑوس والے جمع کیے جاتے ہیں، اس وقت بھی حسب موقع کھانا یا ناشتہ اور مٹھائی کا انتظام ہوتا ہے۔ جوڑا لانے والے کو انعام دیا جاتا ہے، امام صاحب یا کوئی معزز آدمی اس لال خط کو پڑھتے ہیں، اس لال خط میں 100 روپے وغیرہ بھی رکھے جاتے ہیں، جو پڑھنے والے کو دیے جاتے ہیں، پھر جوڑا ایک طشت میں رکھ کر لوگوں کے ہاتھوں میں گھمایا جاتا ہے، یہ جوڑا کھولے جانے کا شریعت میں کوئی ثبوت نہیں ہے، مندرجہ ذیل چند خرابیوں کی وجہ سے ناجائز ہے۔
شریعت میں کوئی ثبوت نہیں ہے بلاوجہ فضول خرچی کی جاتی ہے، امام صاحب کو اگر خط کے پیسے بھیجنے یاد نہ رہے تو اعتراض کیا جاتا ہے، جوڑے میں کوئی کمی نکل آئے تو غیبتیں، برائیاں شروع ہوجاتی ہیں، جوڑا لانے والے کی حسب حیثیت اعزاز و اکرام، خاطر تواضع نہ کی گئی یا اس کو حسب منشا انعام سے نہ نوازا گیا تو شکوؤں شکایتوں کا باب کھل جاتا ہے۔ لہٰذا مذکورہ بالا وجوہات کی بنا پر یہ رسم بھی ناجائز ہے۔
Attached Thumbnails
IMG_20180316_093215.jpg  
journalist is offline   Reply With Quote
Reply

Bookmarks

Tags
islami, maloomat


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
Thread Tools
Display Modes

Posting Rules
You may not post new threads
You may not post replies
You may not post attachments
You may not edit your posts

BB code is On
Smilies are On
[IMG] code is On
HTML code is Off

Forum Jump

Similar Threads
Thread Thread Starter Forum Replies Last Post
ISLAMI MALOOMAT 1 journalist Islamic Maloomat 0 03-12-2016 10:16 PM
ISLAMI MALOOMAT journalist Islamic Maloomat 0 03-12-2016 10:15 PM
ISLAMI MALOOMAT journalist Islamic Maloomat 0 03-10-2016 12:41 PM
ISLAMI MALOOMAT journalist Islamic Maloomat 0 03-08-2016 12:08 PM
ISLAMI MALOOMAT journalist Islamic Maloomat 0 03-07-2016 01:38 PM


All times are GMT +6. The time now is 10:04 AM.


Powered by vBulletin® Version 3.8.9
Copyright ©2000 - 2020, vBulletin Solutions, Inc.