Urdu Planet Forum -Pakistani Urdu Novels and Books| Urdu Poetry | Urdu Courses | Pakistani Recipes Forum  

Go Back   Urdu Planet Forum -Pakistani Urdu Novels and Books| Urdu Poetry | Urdu Courses | Pakistani Recipes Forum > Islam > Islam > Islamic Maloomat

Notices

Reply
 
Thread Tools Display Modes
Old 05-04-2018, 04:29 PM   #1
journalist
Moderator

Users Flag!
 
Join Date: Nov 2011
Posts: 13,664
journalist has a reputation beyond reputejournalist has a reputation beyond reputejournalist has a reputation beyond reputejournalist has a reputation beyond reputejournalist has a reputation beyond reputejournalist has a reputation beyond reputejournalist has a reputation beyond reputejournalist has a reputation beyond reputejournalist has a reputation beyond reputejournalist has a reputation beyond reputejournalist has a reputation beyond repute
Default Islami Maloomat

معاشرے کے روگ
(ہمارے معاشرے کا) تیسرا عنصر عوام پر مشتمل ہے۔ یہ ہماری قوم کا سواد اعظم ہے۔ ہماری کل آبادی کا 90 فی صدی، بلکہ اس سے بھی کچھ زیادہ۔ یہ لوگ اسلام سے گہری عقیدت اور مخلصانہ محبت رکھتے ہیں۔۔۔ ان غریبوں کو کئی روگ لگے ہوئے ہیں۔
سب سے بڑا اور بنیادی روگ یہ ہے کہ جس اسلام سے یہ عشق رکھتے ہیں اس کو جانتے نہیں ہیں۔ اس کی تفصیلات سے ہی نہیں، اس کے اصول ومبادی تک سے بے خبر ہیں۔ اسی لیے ہر ضال و مضل (گمراہ) شخص اسلام کا لباس پہن کر ان کو بہکا سکتا ہے۔ ہر غلط عقیدہ اور غلط طریقہ اسلام کے نام سے ان کے اندر پھیلایا جاسکتا ہے۔۔۔
اس پر مزید یہ کہ ان کی اپنی قوم کے اہلِ دماغ اور بااثر طبقوں نے انھیں اور بہت سے نئے روگ لگا دیے ہیں۔ یہ غریب تعلیم کے لیے جدید درس گاہوں میں جاتے ہیں تو وہاں زیادہ تر مخلص اور مکّار ملاحدہ، یا نیم مسلم و نیم ملحد حضرات سے ان کو پالا پڑتا ہے۔ قدیم مدارس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں تو اکثر مذہبی سوداگروں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں۔ دینی معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو خطیبوں اور واعظوں کی عظیم اکثریت انھیں گمراہ کرتی ہے۔ روحانی تربیت کے طالب ہوتے ہیں تو پیروں کی غالب اکثریت ان کے لیے رہزن ثابت ہوتی ہے۔ دنیوی معلومات کے سرچشموں کی طرف رجوع کرتے ہیں تو اْن اخبارات اور رسائل سے اِن کو سابقہ پیش آتا ہے جن کی بہت بڑی اکثریت ہماری قوم کے سب سے زیادہ رذیل طبقے کے ہاتھ میں ہے۔ قومی اور ملکی معاملات کی سربراہ کاری کے لیے لیڈر ڈھونڈتے ہیں تو وہ زیادہ تر ملاحدہ اور نیم ملاحدہ اور مترفین کے گروہ سے نکلتے ہیں۔ اپنی معیشت کی تلاش میں رزق کے منبعوں کی طرف جاتے ہیں تو وہاں بیش تر اْن لوگوں کو قابض پاتے ہیں جنھوں نے حرام وحلال کے امتیاز کو مستقل طور پر ختم کر رکھا ہے۔ غرض، ہماری قوم کے وہ طبقے جو دراصل ایک قوم کے دل اور دماغ ہوتے ہیں اور جن پر اْس کے بناؤ اور بگاڑ کا انحصار ہوا کرتا ہے، اس وقت بدقسمتی سے ایک ایسا عنصر بنے ہوئے ہیں جو اسے بنانے کے بجاے بگاڑنے پر تْلا ہوا ہے اور بناؤ کی ہر صحیح و کارگر تدبیر میں مزاحم ہے۔ (اشارات، ترجمان القرآن، جولائی 1951)
*۔۔۔*۔۔۔*
حرکت کا مقابلہ حرکت سے
کوئی تہذیبی وتمدنی حرکت جمود کی چٹانوں سے نہیں روکی جاسکتی۔ اس کو اگر روک سکتی ہے تو ایک مقابل کی تہذیبی وتمدنی حرکت ہی روک سکتی ہے۔ ہمارے ہاں اب تک سیلابوں کا مقابلہ چٹانیں کرتی رہی ہیں۔ اسی لیے ہمارے ملک سمیت قریب قریب تمام مسلمان ملک مغرب کے فکری وتہذیبی سیلابوں میں غرق ہوتے چلے گئے ہیں۔ اب ہم حرکت کا مقابلہ حرکت سے اور سیلاب کا مقابلہ جوابی سیلاب سے کر رہے ہیں۔۔۔ ہماری تحریک کسی ایک گوشے یا ایک میدان میں ان ضلالتوں کا مقابلہ نہیں کررہی ہے بلکہ ہر میدان میں ہمارا اور ان کا تصادم ہے۔ ہم نے ان کے تمام نظریات اور عملی طریقوں پر تنقید کی ہے اور ان کی کمزوریاں کھول کھول کر سامنے رکھ دی ہیں۔ ہم نے ہر مسئلۂ زندگی کا حل ان کے حل کے جواب میں پیش کیا ہے اور دلائل سے اس کو معقول ثابت کردیا ہے۔ ہم ان کے ادب کے مقابلے میں ایک صالح ادب لائے ہیں، ان کے فلسفے کے مقابلے میں ایک بہتر فلسفہ لائے ہیں، ان کی سیاست کے مقابلے میں ایک زیادہ مضبوط سیاست لائے ہیں، اور ہماری صفوں میں ان کا مقابلہ کرنے کے لیے صرف قال اللہ وقال الرسول جاننے والے ہی نہیں ہیں بلکہ اس کے ساتھ قال ہیگل وقال مارکس وقال فرائڈ بھی انھی کے برابر جاننے والے ہیں۔ درس گاہوں میں جہاں ان کی فکر اور تہذیب کی اشاعت کرنے والے موجود ہیں، وہیں انھی کی ٹکّر کے فکری و تہذیبی مبلغ ہماری طرف سے بھی موجود ہیں۔۔۔ سوسائٹی کے ہر طبقے میں ان کے اثرات کے بالمقابل ہمارے اثرات بھی کم یا زیادہ کارفرما ہیں۔۔۔ اور ایک طاقتور راے عامہ غیراسلامی افکار و اخلاق واطوار کے خلاف تیار ہوتی جارہی ہے۔۔۔ جماعت اسلامی بھی خالی خولی تقریریں اور تحریریں اور اجتماعی سرگرمیاں لیے ہوئے سامنے نہیں آگئی ہے بلکہ وہ انفرادی سیرت اور جماعتی اخلاق بھی ساتھ لائی ہے جو اسلام کی اگر مکمل نہیں تو کم ازکم صحیح نمایندگی ضرور کرتا ہے۔ اس کے اثرات جہاں جہاں بھی پہنچ رہے ہیں، وہاں اسلامی خیالات کے ساتھ اسلامی تہذیب اور اسلامی اطوار کا مظاہرہ پورے فخر کے ساتھ سر اْونچا کرتے ہوئے کیا جا رہا ہے، اور وہ کیفیت دْور ہو رہی ہے کہ ماڈرن سوسائٹی میں ایک شخص نماز تک پڑھتے ہوئے شرماتا تھا اور ایک خاتون بْرقع اوڑھنے پر لاکھ معذرتیں کرکے بھی ڈرتی تھی کہ نہ معلوم تاریک خیالی کا دھبہ اس کے دامن سے مٹا یا نہیں۔ (اشارات، ترجمان القرآن،hi جون 1951
journalist is offline   Reply With Quote
Reply

Bookmarks

Tags
islami, maloomat


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
Thread Tools
Display Modes

Posting Rules
You may not post new threads
You may not post replies
You may not post attachments
You may not edit your posts

BB code is On
Smilies are On
[IMG] code is On
HTML code is Off

Forum Jump

Similar Threads
Thread Thread Starter Forum Replies Last Post
ISLAMI MALOOMAT journalist Islamic Maloomat 0 07-10-2015 11:01 AM
ISLAMI MALOOMAT journalist Islamic Maloomat 0 06-12-2015 01:49 PM
ISLAMI MALOOMAT journalist Islamic Maloomat 0 06-01-2015 12:40 PM
ISLAMI MALOOMAT 4 journalist Islamic Maloomat 1 05-05-2015 01:25 AM
ISLAMI MALOOMAT 3 journalist Islamic Maloomat 0 05-04-2015 03:32 PM


All times are GMT +6. The time now is 09:03 PM.


Powered by vBulletin® Version 3.8.9
Copyright ©2000 - 2019, vBulletin Solutions, Inc.