Urdu Planet Forum -Pakistani Urdu Novels and Books| Urdu Poetry | Urdu Courses | Pakistani Recipes Forum  

Go Back   Urdu Planet Forum -Pakistani Urdu Novels and Books| Urdu Poetry | Urdu Courses | Pakistani Recipes Forum > General Forum > News and Current Affairs

Notices

News and Current Affairs All kind of news and Current Affairs will goes here

Reply
 
Thread Tools Display Modes
Old 09-14-2017, 05:40 PM   #1
journalist
Moderator

Users Flag!
 
Join Date: Nov 2011
Posts: 13,664
journalist has a reputation beyond reputejournalist has a reputation beyond reputejournalist has a reputation beyond reputejournalist has a reputation beyond reputejournalist has a reputation beyond reputejournalist has a reputation beyond reputejournalist has a reputation beyond reputejournalist has a reputation beyond reputejournalist has a reputation beyond reputejournalist has a reputation beyond reputejournalist has a reputation beyond repute
Default AWAMI MARKAZ ISLAMABAD

عوامی مرکز اسلام آباد کی پہلی جدید ترین عمارت تھی یہ چھ منزلہ عمارت تھی اور یہ بے نظیر بھٹو کے دوسرے دور میں مکمل ہوئی یہ وفاقی دارالحکومت کی پہلی عمارت تھی جس میں کولنگ اور ہیٹنگ کا سینٹرل سسٹم بھی تھا اور برقی سیڑھیاں بھی تھیں یہ بڑے بڑے شیشوں والی پہلی عمارت بھی تھی عوامی مرکزکا مقصد عوام کو وہ تمام سہولتیں ایک چھت کے نیچے فراہم کرنا تھا جن کے لیے لوگ مختلف دفتروں میں دھکے کھاتے ہیں چنانچہ ریلوے اور پی آئی اے سے لے کر ڈاک ٹیلی فون گیس بجلی اور یوٹیلٹی اسٹور تک تمام عوامی اداروں نے اپنے عوامی آفس یہاں کھول لیے یہ سہولت صرف اسلام آباد کے شہریوں کے لیے تھی میں ان دنوں تازہ تازہ اسلام آباد آیا تھا میں اکثر اوقات گھر کا سودا سلف خریدنے ٹیلی فون کرنے ٹکٹیں بک کرانے اور بل جمع کرانے کے لیے عوامی مرکز چلا جاتا تھا یہ عمارت ایک تفریح گاہ بھی تھی وہاں ریستوران بھی تھے اور بچوں کے کھیلنے کے لیے پلے لینڈ بھی چنانچہ بے شمار فیملیز وہاں آ جاتی تھیں لیکن پھر اس عمارت کے ساتھ بھی وہی ہوا جو عموماً ہمارے ملک میں خوبصورت عمارتوں اداروں اور محکموں کے ساتھ ہوتا ہے۔

یہ عمارت بھی ویران ہو گئی شروع میں عوامی اداروں کے دفتر بند ہوئے پھر یوٹیلٹی اسٹور ختم اور آخر میں باقی دفاتر بھی وہاں سے شفٹ ہو گئے ملک میں ان دنوں انفارمیشن ٹیکنالوجی کا بوم تھا حکومت نے عوامی مرکز آئی ٹی کمپنیوں کے حوالے کر دیا یوں اسلام آباد کی جدید ترین عمارت آئی ٹی پارک بن گئی یہ عمارت ریڈزون میں تھی سامنے سیکریٹریٹ وزیراعظم ہاؤس اور ایوان صدر تھا دائیں جانب پی ٹی وی اور ذرا ساہٹ کر پارلیمنٹ ہاؤس تھا بائیں جانب میریٹ اور میریٹ سے اوپر مارگلہ کی پہاڑیاں تھیں اور پشت پر بلیو ایریا تھا عمارت کی لوکیشن ہرلحاظ سے آئیڈیل تھی لیکن حکومتی عدم توجہی کی وجہ سے یہ عمارت مختلف محکموں کے پاس دھکے کھاتی رہی اور یہ آخر میں آئی ٹی پارک بن گئی عمارت کے مختلف فلورز پر 40 مختلف دفاتر قائم تھے ان میںوفاقی ٹیکس محتسب ڈیجیٹل پراسسنگ سسٹم اسمارٹ آئی ایس پرائیویٹ لمیٹڈ نیشنل پراڈکٹویٹی آرگنائزیشن نالج پلیٹ فارم انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ پاکستان انڈسٹریل ڈویلپمنٹ کارپوریشن اورسی پیک کے دفاتر بھی شامل تھے۔

یہ دونوں کال سینٹر میں کام کرتے تھے یہ دونوں ایم بی اے تھے علی رضا والدین کی اکلوتی اولاد تھا یہ دونوں چوتھی منزل پر تھے آگ لگی تو علی رضا مدد مدد پکارنے لگا پولیس کے اہلکار چٹائی لے کر نیچے کھڑے ہو گئےپولیس اہلکاروں کا خیال تھا نوجوان چھلانگ لگائے گا چٹائی پر گرے گا اور یہ اسے سنبھال لیں گے نوجوان علی رضا نے چھلانگ لگادی چٹائی کمزور تھی یہ چوتھی منزل کی گریوٹی نہ سنبھال سکی یہ پھٹ گئی اور نوجوان علی رضا پکے فرش پر گرکر ہلاک ہو گیاجب کہ دوسرا نوجوان عمر ایاز براہ راست فرش پر گر کر جاں بحق ہو گیا حکومت کی ابتدائی تحقیقات میں یہ بات نوٹس میں آئی عمارت میں باقاعدہ ایمرجنسی راستہ موجود تھا لیکن نوجوان اس راستے سے واقف نہیں تھے چنانچہ انھوں نے بلاوجہ چھلانگ لگا کر جان دے دی۔

دوسرا عمارت میں آگ بجھانے کے آلات اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کے سلینڈر بھی موجود تھے لیکن یہ تمام آلات سال بھر سے ایکسپائر ہو چکے تھے اور کسی نے انھیں چیک کرنے کی زحمت تک گوارہ نہ کی یہ بھی نوٹس میں آیا چوتھی منزل سے کودنے والا نوجوان بھی آگ سے بچنے کے عمل سے واقف نہیں تھا اور آگ بجھانے والے بھی یہ نہیں جانتے تھے انسان اگر چوتھی منزل سے چھلانگ لگائے تو عام چٹائی اس کا وزن برداشت نہیں کر سکتی یہ بھی پتہ چلا وفاقی دارالحکومت میں بھی آگ بجھانے کا مناسب بندوبست موجود نہیں ہمارے دس ادارے مل کر بھی پانچ چھ منزلہ عمارت کو آگ سے نہیں بچا سکتے اور یہ بھی پتہ چلا عمارت کا گارڈ وقار بھی آگ سے بچنے کے عمل سے واقف نہیں تھا اس کے پاس بھی فائرسیفٹی کے آلات موجود نہیں تھے اوریہ اسلام آباد کی صورت حال ہے دنیا کی پہلی اسلامی جوہری طاقت کے وفاقی دارالحکومت کی صورت حال سے آپ باقی پاکستان کا خود اندازہ کر لیجیے۔

یہ ملک اس وقت شاہدخاقان عباسی اور پروفیسر احسن اقبال کے اختیار میں ہے یہ دونوں اگر اس عبوری دور میں زیادہ نہیں کر سکتے تو یہ کم از کم ملک کے دس بڑے شہروںکو آگ سے ضرور محفوظ بنا سکتے ہیں یہ صرف تھوڑی سی توجہ دیں اور یہ فرسٹ ایڈ اور فائر فائٹنگ کو پرائمری تک سلیبس کا حصہ بنا دیں تو ملک میں ٹھیک ٹھاک تبدیلی آ جائے گی ملک بدل جائے گا ہمارے بچوں کو کم از کم فرسٹ ایڈ اور فائرفائٹنگ کا علم ضرور ہونا چاہیے حکومت تمام سرکاری اور غیر سرکاری دفتروں میں مہینے میں ایک بار فائر فائٹنگ کی ٹریننگ بھی لازمی قرار دے دے اس دن فائربریگیڈ کا عملہ آئے اور سارے دفتر کو جمع کر کے تمام ملازمین کو آگ اور زلزلے سے بچنے کی ٹریننگ دے دے ملک بھر کے تمام دفتروں عمارتوں اسکولوں کالجوں اور یونیورسٹیوں میں آگ بجھانے کے آلات بھی لازمی قرار دے دیے جائیں۔

ملک کی تمام عمارتوں میں آلات اور اسموک الارم ضرور لگیں اور ان کی ری فلنگ اور پڑتال بھی وقت پر ہو آپ ملک بھر کی تمام عمارتوں کے لیے ایمرجنسی گیٹ بھی لازمی قرار دے دیں وہ تمام عمارتیں جن میں ایمرجنسی گیٹ نہیں ہیں وہ ناقابل استعمال ڈکلیئر کر دی جائیں اور مالکان جب تک ان میں ایمرجنسی گیٹ نہیں لگوا دیتے حکومت انھیں اس وقت تک سیل کر دے اور حکومت تمام سرکاری اور غیر سرکاری ملازمین کے لیے بھی ہنگامی صورتحال سے نبٹنے اور فرسٹ ایڈ کی ٹریننگ لازمی قرار دے دے یہ ٹریننگ چالیس گھنٹوں پر مشتمل ہونی چاہیے ملازمین یہ چالیس گھنٹے سال بھر میں پورے کریں اور یہ لوگ جب تک ٹریننگ کا سرٹیفکیٹ جمع نہ کرا دیں۔

ادارہ اس وقت تک ان کی پروموشن روک دے یہ قانون کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بھی لاگو کر دیا جائے طالب علم جب تک سر ٹیفکیٹ جمع نہ کرائیں یہ بھی اگلی جماعت میں پروموٹ نہ ہوں پاکستان میں اس وقت 148سرکاری اور غیرسرکاری یونیورسٹیاں ہیں ہمارے ملک میں12انجینئرنگ یونیورسٹیاں بھی ہیں حکومت ان یونیورسٹیوں کو اچھا اور کارآمد فائر فائیٹنگ سسٹم بنانے کا ٹاسک بھی دے سکتی ہے یونیورسٹیاں سسٹم بنائیں حکومت سسٹم کی پڑتال کرےحکومت ان میں سے شاندار مفید اور سستا سسٹم منتخب کرےنظام بنانے والے طالب علموں اور پروفیسروں کو انعام دے اور یہ نظام پورے ملک میں نافذ کر دیا جائے حکومت اس سسٹم کی رائیلٹی طے کر کے سسٹم بنانے والوںکو ہر سال نقد رقم بھی فراہم کرتی رہے یوں طالب علموں کی حوصلہ افزائی بھی ہو گی یونیورسٹیاں بھی مفید کام کریں گی بزنس بھی چلے گا اور پروفیسروں اور طالب علموں کی آمدنی میں بھی اضافہ ہوگا۔

ہم لوگ اگر آج کے دور میں اپنی عمارتوں کو آگ سے نہیں بچا سکتے ہم اگر آج 21 ویں صدی میں اپنے لوگوں کو ہنگامی صورتحال سے نبٹنے کا طریقہ نہیں سکھا سکتے ہم اگر وفاقی دارالحکومت میں بھی جدید ترین فائر بریگیڈ اور آگ بجھانے کے ٹرینڈ ورکرز کا بندوبست نہیں کر سکتے اور اگر ہمارے ملک کی 148یونیورسٹیاں مل کر بھی آگ بجھانے کا کوئی مناسب سسٹم نہیں بنا سکتیں تو پھر ہمیں ملک کو دیوالیہ قرار دے دینا چاہیے ہمیںعوام سے معافی مانگ کر پوری قوم کو نااہل قرار دے دینا چاہیے خدا کی پناہ آپ سانحہ بلدیہ ٹاؤن سے لے کر عوامی مرکز تک ملک میں آتش زدگی کی ہر واردات کا ڈیٹا نکال کر دیکھ لیجیے آپ کو ہر واقعے ہر سانحے میں لوگ no سے کود کر مرتے دکھائی دیں گے آپ ملک میں آتش زدگی کا کوئی واقعہ اٹھا کر دیکھ لیجیے آپ کو کسی واقعے میںفائربریگیڈ وقت پر پہنچتا اور عمارت کو مکمل محفوظ کرتا نہیں ملے گا۔

ہمارے ملک میں جہاں بھی آگ لگی وہ عمارت اس کے بعد قابل استعمال نہیں رہی اور یہ انتہائی قابل افسوس ہے انگریز کے دور میں ہر بڑی سرکاری عمارت میں پانی کا تالاب ہوتا تھا یہ تالاب عمارت کی خوبصورتی میں بھی اضافہ کرتا تھا اور آگ لگنے کی صورت میں فائر بریگیڈ کا کام بھی کرتا تھا لیکن ہم نے اپنے ڈیزائن سے یہ بھی اڑا دیاانگریز کے دور کی ہر عمارت میں ایمرجنسی گیٹ ہوتا تھا ہم نے یہ روایت بھی ختم کر دی اور انگریز نے آج سے ڈیڑھ سو سال قبل اسکول کے طالب علموں کو آگ بجھانے اور فرسٹ ایڈ کی تعلیم دینا شروع کی تھی ہم نے یہ ٹریننگ بھی بند کر دی ہم معلوم نہیں کیا کرنا چاہتے ہیں میری حکومت سے درخواست ہے آپ ملک کو آگ بجھانے کی اچھی روایات دے دیں یہ ملک خودبخود ترقی کر لے گا علی رضا اور عمراعجاز جیسے نوجوان اب مزید کھڑکیوں سے لٹکنا افورڈ نہیں کر سکتے حد کی حد کو بھی گزرے ہوئے بڑا عرصہ ہوچکا ہے اب نااہلی اور بے حسی کا یہ بازار بند ہو جانا چاہیے حکومت کو اب وہ کام شروع کر دینے چاہئیں جن کے لیے حکومت کو حکومت سمجھا جاتا ہے اور اگر یہ ممکن نہیں تو پھر ملک کو دیوالیہ ڈکلیئر کر دیا جائے تا کہ ہم سب ایک ہی بار علی رضا کی طرح دنیا سے رخصت ہو جائیں۔
journalist is offline   Reply With Quote
Reply

Bookmarks

Tags
awami, islamabad, markaz


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
Thread Tools
Display Modes

Posting Rules
You may not post new threads
You may not post replies
You may not post attachments
You may not edit your posts

BB code is On
Smilies are On
[IMG] code is On
HTML code is Off

Forum Jump

Similar Threads
Thread Thread Starter Forum Replies Last Post
Social Media Optimization Expert in Islamabad & Pakistan | SEO Company Islamabad Wiki seoservices0 General Discussion 0 11-09-2016 08:12 PM
:}:}:} Islamabad Introduction {:{:{: Rania Pakistan Planet 10 12-24-2012 01:45 AM
Faisal Mosque, Islamabad Rania Pakistan Planet 9 12-24-2012 01:36 AM


All times are GMT +6. The time now is 12:02 PM.


Powered by vBulletin® Version 3.8.9
Copyright ©2000 - 2020, vBulletin Solutions, Inc.